پیر کے مرید ہو اس لئے جان بچ گئی ۔ اس کا علاج میرے بس میں نہیں ہے۔دوسری رات پھر اسی طرح 2:00 بجے کے قریب کسی نادیدہ قوت نے نیند کی حالت میں بسترسے اٹھاکر نیچے پھینک دیا اورساری رات مجھے اذیت دی جاتی رہی۔ مدد کیلئے پکارتا رہامگر بے سُود۔دن کے وقت میں نے قریبی مزار پر حاضری دی اور آنکھیں بند کرکے عرض کی:''حضور! میرے مرشد کا واسطہ !کم از کم اتنا تو ہو کہ جو نادیدہ قوت مجھے تکلیف دیتی ہے نظر آئے۔'' یہ عرض کرکے جیسے ہی آنکھیں کھولیں تو برابر میں بھیانک چہرے والی ایک خوفناک بلا کھڑی دکھائی دی ۔ جس کے دانت سینے تک نکلے ہوئے تھے اورسر چھت کو چھو رہا تھا۔ اس کا چہرہ بے حد سیاہ تھا ۔وہ بڑی بڑی سرخ آنکھیں مجھے گھوررہی تھیں۔میں گھبرا کر وہاں سے چل دیا تو وہ بلا بھی میرے ساتھ ہولی۔ باہر آکر جب میں نے مزار کے احاطے میں نگاہ دوڑائی تومجھے عجیب الخلقت مخلوق دکھائی دی جن میں بچے بھی تھے اورلمبے قد والے مردبھی جن کے بال گھٹنوں تک اور چہرے انسانوں سے مختلف تھے۔ اب چونکہ وہ نادیدہ قوت ظاہر ہوچکی تھی۔ لہٰذا سامنے آکر میری پٹائی کیا کرتی ۔
ایک صبح میں نے سبز عمامہ باندھے ہوئے اسلامی بھائی کو یہ تمام معاملہ بتایا تو انہوں نے پوچھا:'' تم اپنے پیرومرشد شیخ طریقت امیر اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ کے عطا کردہ شجرہ شریف میں سے اورادو وظائف پڑھتے ہو؟ ''میں نے عرض کی:'' پڑھنا تو دور کی بات، میرے پاس تو شجرہ بھی نہیں ہے۔''انہوں نے مجھے شجرہ عطاریہ دیا