Brailvi Books

شرحِ شجرہ قادِریہ رضویہ عطاریہ
194 - 216
گیا۔ میں بے حد پریشان تھا ، مَدَنی مُنّی کی امّی تو مسلسل روئے جارہی تھی کہ شاید اب میری بیٹی جانبر نہ ہوسکے ۔ اسی دوران میں عصر کی نماز پڑھنے قریبی مسجد میں گیا ۔ نماز کے بعد میں نے رو رو کر شجرہ شریف کے یہ دعائیہ اشعار پڑھے ؛
یا الہٰی رَحم فرما مصطفی کے واسِطے (عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم)

یا رسولَ اللہ کرم کیجيے خدا کے واسِطے (عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم)

؎مشکلیں حل کر شہ مُشکل کُشا کے واسِطے (رضی اللہ تعالیٰ عنہ)

کر بلائیں رَد شہیدِ کربَلا کے واسِطے  (رضی اللہ تعالیٰ عنہ)
پھر میں نے اپنے پیر ومُرشِد شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ کے وسیلے سے دعا مانگی کہ'' یارب عزوجل ! میری مَدَنی مُنّی کو شفا عطا فرما۔''دعا کے بعد جب میں مسجد سے نکلا تو مجھے ایسا لگا کہ ربّ عَزَّوَجَلَّ کی رحمتوں نے میری مَدَنی مُنّی کو ڈھانپ لیا ہے اور ایسا ہی ہوا ڈاکٹروں کی توقع کے برعکس کچھ ہی دیر میں میری مَدَنی مُنّی نے آنکھیں کھولدیں اور یوں ہنسنے مُسکرانے لگی جیسے کچھ ہوا ہی نہ تھا ۔بس ذرا سی نقاہت نظر آرہی تھی ۔الحمدللہ عَزَّوَجَلَّ دوسرے ہی دن مَدَنی مُنّی اسپتال سے گھر واپس آگئی ۔ تادمِ تحریر ایک ماہ سے زائد عرصہ گزرچکا ہے ،اُس کی طبیعت دوبارہ خراب نہیں ہوئی بلکہ اس کی صحت پہلے سے بہتر نظر آتی ہے ۔

اللہ عَزّوَجَلَّ کی امیرِ اَہلسنّت پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری مغفِرت ہو
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد
Flag Counter