بابُ المدینہ(کراچی) کے ایک اسلامی بھائی کے بیان کا خُلاصہ ہے : اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول اوراپنے پیرومرشد شیخ طریقتامیراہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ کے دامن سے وابستگی کی برکت سے میں نماز تو پڑھنے لگا تھا مگر ثواب کمانے کے دیگر ذرائع مثلاًدرسِ فیضانِ سنّت ،علاقائی دورہ برائے نیکی کی دعوت اور دیگرمَدَنی کاموں سے محروم تھا ۔نفس وشیطان مجھے ثواب جاریہ کے ان عظیم کاموں کی طرف آنے ہی نہیں دیتے تھے ۔مجھے ڈر تھا کہ کہیں میں اس مَدَنی ماحول سے دُور ہو کر پھر سے غفلت کا شکار نہ ہوجاؤں۔ ایک اسلامی بھائی سے مُلاقات ہوئی تو میں نے اُن سے اپنی پریشانی کا تذکرہ کیا ۔انہوں نے مجھے امیراہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ کے عطاکردہ رسالے'' شجرہ قادریہ رضویہ ضیائیہ عطّاریہ ''سے شجرہ عالیہ پڑھنے کا مشورہ دیا۔میں نے ایسا ہی کیا ۔تین یا چار دن ہی گزرے ہوں گے اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ میرا دل نیکیوں کی طرف مائل ہوگیا اور میں نے دعوتِ اسلامی کا مَدَنی کام بھی کرنا شروع کردیا ۔