| شرحِ شجرہ قادِریہ رضویہ عطاریہ |
رسالہ مکتبۃ المدینہ کی کسی بھی شاخ سے ھدیۃً حاصل کیا جاسکتا ہے)۔اسی رسالے میں گناہوں سے بچنے کیلئے،کام اٹک جائے تواس وقت،اور روزی میں بَرَکت کیلئے کیا کیا پڑھنا چاہے،نیزجا دوٹونے سے حفاظت کیلئے کیا کرنا چاہے، اسی طرح کم وبیش 52 ''اَوراد ووظائف ''لکھے ہیں۔اس کو صرف وہ ہی پڑھ سکتے ہیں،جو امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے ذریعے قادری رضوی عطاری سلسلے میں مُرید یا طالب ہوتے ہیں۔ان کے علاوہ کسی اور کو پڑھنے کی اجازت نہیں۔
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
شجرہ عالیہ کے اشعار کس نے لکھے؟
شجرہ عالیہ قادریہ رضویہ عطّاریہ کل 23 اشعار پر مشتمل ہے ۔ اس کے ابتدائی18اشعار اورمقطع (یعنی آخری شعر ) امام ِاَہلسنّت،اعلیٰ حضرت علامہ مولانا الشاہ امام احمد رضا خانعلیہ رحمۃ الرحمن کاکلام ہے۔ملک العلماء مولانا محمد ظفرالدین بہاری علیہ رحمۃ اللہ الباری حیات اعلیٰ حضرت جلد 3صفحہ 54پر لکھتے ہیں :''ہم لوگ متوسلین بارگاہِ رضویہ ،اعلیٰ حضرت قدس سرہ العزیز کی حیات میں تو اسی طرح پڑھا کرتے تھے جیسے اعلیٰ حضرت نے نظم فرمایا اور اس کتاب (یعنی حیاتِ اعلیٰ حضرت )میں درج ہے اور مقطع (یعنی آخری شعر )کایہ مطلب لیتے تھے کہ خداوندا(یعنی اے خداعزوجل)ببرکتِ پیرومُرشِد برحق حضرت مولانا احمد رضاخان صاحب ہم لوگوں کو چھ عین ؛عز،علم ،عمل ،عفو ،عرفاں ،عافیت عطا فرما ۔جب ۲۵ صفر روزِ جمعہ مبارکہ ۱۳۴۰ھ میں اعلیٰ حضرت (رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ)کا وصال ہوا اور حضرت حجۃ الاسلام