تھی کہ اگر کپڑا بننے کی مشین کا کوئی پُرزہ خراب ہوجائے تو میں اسے فیکٹری والوں کی اجازت سے لے جاؤں اوراسے دکھا کر بازار سے نیا پُرزہ خرید لاؤں ۔ میں اپنا یہ فریضہ بخوبی انجام دیتا تھامگر مجھے شدید ذہنی پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ۔ وہ یوں کہ جب میں فیکٹری سے وہ قیمتی پُرزہ لے کر بازار کا رُخ کرتا تو راستے میں کچھ پولیس والے آنے جانے والوں کو چیکنگ کے نام پر روکتے اور ''چائے پانی'' کا مطالبہ کرتے ۔میں اُن کی اس زیادتی سے بچنے کے لئے دوسرا راستہ اختیار کرتا جو خاصا طویل تھا ۔مجھے کافی پریشانی کا سامنا کرنا پڑتامگر کیا کرتا مجبور تھا۔ ایک دن میں نے ایک اسلامی بھائی سے اپنا یہ مسئلہ بیان کیا تو وہ فرمانے لگے کہ آپ اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ امیراہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ کے مُرید ہیں ،عطّاری ہیں ،کیا'' شجرہ قادریہ رضویہ ضیائیہ عطّاریہ '' کا رسالہ اپنے پاس رکھتے ہیں؟ میں نے کہا نہیں۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ یہ رسالہ اپنے پاس رکھئے اور شجرہ عالیہ کا یہ شعر کثرت سے پڑھا کریں: