| شرحِ شجرہ قادِریہ رضویہ عطاریہ |
امیرِاہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ سے شرفِ بیعت نصیب ہوا ۔مگر میرے دل کو یہ دھڑکا لگا رہتا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ استقامت نہ ملنے کی وجہ سے میں دعوتِ اسلامی کے اس سنّتوں بھرے مَدَنی ماحول سے دُور ہوجاؤں ۔ میں اس عظیم نعمت کو کھونا نہیں چاہتا تھا۔ میں نے اپنے ربّ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں دعائے استقامت کے لئے رسالہ ''شجرہ قادریہ رضویہ ضیائیہ عطاریہ ''میں دئیے گئے شجرہ عالیہ کے اس شعر کو خصوصیت کے ساتھ پڑھنا شروع کیا :
نَصرا َبی صالح کا صدْقہ صالح و منصور رکھ (رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ) دے حیاتِ دین مُحْیِ جانْفِزا کے واسِطے(رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ)
اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ اس دعائیہ شعر کی بَرَکت سے شیطانی وسوسوں سے نجات مل گئی اورمجھے ایسی استقامت نصیب ہوئی کہ تادم بیان تقریباً 12سال ہوگئے ،میں دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ رہتے ہوئے سنّتوں کی خدمت کررہا ہوں اور نگاہِ مُرشِد کے صدقے (تادمِ بیان)دعوتِ اسلامی کی پاکستان انتظامی کابینہ کا رُکن بھی ہوں۔ آج بھی مجھے کوئی پریشانی آتی ہے تو میں اُس پریشانی کی مناسبت سے شجرہ عالیہ کے کسی ایک شعر کو اپنی دُعا کا حصہ بنا لیتا ہوں۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ میری وہ پریشانی دُور ہوجاتی ہے ۔نہ صرف میں خُود ایسا کرتا ہوں بلکہ خیرخواہی کے جذبے کے تحت دیگر اسلامی بھائیوں کو بھی اس کا مشورہ پیش کرتا ہوں ۔
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد