Brailvi Books

شرحِ شجرہ قادِریہ رضویہ عطاریہ
182 - 216
 (24)پوشیدہ بیماری دور ہوگئی
    بابُ المدینہ(کراچی) کے ایک اسلامی بھائی کے بیان کا لُبِّ لُباب ہے:میں ایک پریشان کُن مردانہ بیماری میں مبتلاتھا ۔ڈاکٹری علاج سے بات بنتی ہوئی نظر نہ آتی تھی ۔کچھ عرصہ قبل ہی میں دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابَستہ ہوا تھا اور امیراہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ سے بیعت ہوکر عطّاری بھی بن چکا تھا ۔ پیر ومرشد کے عطا کردہ'' شجرہ قادریہ رضویہ ضیائیہ عطاریہ ''میں دئیے گئے اوراد وظائف پڑھنا میرا معمول تھا ۔میں رسالے کے شروع میں دیا گیا شجرہ عالیہ بھی پڑھا کرتا تھا ۔ ایک دن جب میں اس شعر پر پہنچا :
دل کو اچھا تَن کوسُتھر ا جان کو پُر نور کر

اچھے پیارے شَمْسِ دِیں بَدْرُالْعُلیٰ کے واسِطے(رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ)
تو میں نے اپنے مرض سے شفایابی پانے کی نیت سے اس شعر کی تکرار کرنا شروع کر دی ۔اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ ایسا کرتے ہوئے کچھ ہی دِن گزرے ہوں گے کہ کوئی دوائی استعمال کئے بغیر حیرت انگیز طور پر اس مرض سے میری جان چھوٹ گئی۔
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
 (25)طویل پریشانی سے نجات مل گئی
    بابُ المدینہ(کراچی ) کی ایک اسلامی بہن کے حلفیہ بیان کا خُلاصہ ہے کہ میرے ابوجان پر2سال سے ایک ایکسیڈنٹ (حادثے)کے حوالے سے مقدمہ چل رہا تھا ۔
Flag Counter