ہلنے لگی۔ ہم گھبرا گئے کہ نہ جانے یہ جنّات اب ہمارا کیا حشر کریں گے ۔ یکایک دروازے سے قبلہ امیرِ اَہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ مسکراتے ہوئے تشریف لے آئے۔ وہ چڑیل روہانسی ہو کرکہنے لگی:'' مجھے معاف کردو میں چلی جاؤنگی۔'' امیرِ اَہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ نے اسے کمرے سے باہر نکال دیا۔میری طبیعت بھی سنبھل گئی مگر دوسرے دن کچھ اور چڑیلیں پہنچ گئیں اور دھمکی دینے لگیں :''تم 80طلباء ہو اگر80,000بھی ہوں تو ہمارا کچھ نہیں کرسکتے، تمہارے فیضان مدینہ کے کچھ عطاری جن ہیں جن کے باعث ہم مجبور ہیں ورنہ ہم تم سب کا گلا دبادیتیں۔ ہم نے پھر سے شجرہ عالیہ پڑھنا شروع کیاتو سب چڑیلوں نے یہ کہتے ہوئے بھاگنا شروع کردیا کہ ہم صرف تمہارے کراچی والے پیر عطار سے ڈرتی ہیں۔(قومِ جنات ،ص۲۰۹)