صوبہ پنجاب (پاکستان) اٹک کے مقیم اسلامی بھائی کا بیان کچھ یوں ہے کہ 2003ء میں مجھ پر جنات کے اثرات ہوگئے ۔ایک چڑیل آکر مجھے پریشان کیا کرتی تھی۔ میں نے باب المدینہ(کراچی) حاضر ہوکر اپنے پیرو مرشد امیرِ اَہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ کی بارگاہ میں تحریری رقعہ لکھ کر حالات پیش کردیئے۔ آپ دامت برکاتہم العالیہنے رقعہ پر کچھ لکھا اور تسلی دی۔ اس دن سے میری طبیعت بہتر ہونا شروع ہو گئی۔ کم و بیش 2سال بعد2005ء میں تربیتی کورس میں شرکت کیلئے مظفرآباد(کشمیر) پہنچا۔10مئی2005ء بروز منگل انتہائی سیاہ رنگ کی ایک بدصورت عورت جس کے سر کے بال کُھلے ہوئے تھے میرے سامنے آکر کھڑی ہوگئی اورانتہائی غصے کے عالم میں کہنے لگی :''میری دوست چڑیل کو تمہارے کراچی والے پیر نے پکڑ لیا ہے اب میں تمہیں اور تمام تربیتی کورس والوں کو ماردوں گی۔''یہ سن کر میں خوف کے مارے زور زور سے چیخیں مارنے لگا۔
اسلامی بھائیوں نے میری حالت دیکھ کر شجرہ عالیہ قادریہ رَضَویہ عطاریہ کے دعائیہ اشعارپڑھنا شروع کئے ۔جب تک وہ شجرہ شریف پڑھتے رہتے تو طبیعت سنبھل جاتی مگر جب رک جاتے تو پھر ویسی حالت ہوجاتی۔نمازِ عشاء کے بعد طبیعت زیادہ خراب ہوگئی تو سب نے مل کر اپنے پیر و مرشد امیرِ اَہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ کی بارگاہ میں استغاثہ پیش کرنا شروع کردیا،''یا عطار پیر ہر بلا چیر'' تو اچانک اسلامی بھائیوں نے دیکھا کہ کمرے کی کھڑکیاں ہوا کے زور سے کھل گئیں اور دیوار گیر گھڑی زور زور سے