2:00بجے کا وقت ہوگا ۔بحرین میں میرے پڑوسی اسلامی بھائی گھبرائے ہوئے میرے پاس آئے اور بتایا کہ چھوٹے بھائی کی طبیعت اچانک خراب ہوگئی ہے اور وہ اسپتال میں داخل ہے ۔ڈاکٹروں نے بتایا ہے کہ اس کے گردے میں پتھری ہے اور صبح10:00بجے آپریشن ہوگا ۔ میں نے انہیں تسلی دی اور صبح اسپتال پہنچا تو دیکھا کہ ان کا چھوٹا بھائی تکلیف کی شدت سے تڑپ رہا ہے ۔آپریشن ہونے میں ابھی دیر تھی ۔میں نے اپنے پڑوسی اسلامی بھائی (جو وہیں موجود تھے )کو ترغیب دی کہ قریبی مسجد چلتے ہیں کہ امیراہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ فرماتے ہیں کہ کوئی مشکل آن پڑے تو صلوٰۃُ الحاجات پڑھ کر دعا مانگئے ۔ چنانچہ ہم مسجد پہنچے صلوۃ الحاجات پڑھی اور وہیں بیٹھ گئے ۔میں نے اپنی جیب سے امیراہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ کا عطاکردہ رسالہ'' شجرہ قادریہ رضویہ ضیائیہ عطّاریہ '' نکالا اوربلند آواز سے شجرہ عالیہ کے دعائیہ اشعار پڑھنے لگا ۔وہ بھی میرے ساتھ مل کر پڑھنے لگے ۔ ہم کافی دیر تک رو رو کر شجرہ شریف کے دعائیہ اشعار کی تکرار کرتے رہے ۔جب ہم وارڈ میں واپس پہنچے تو یہ دیکھ کر حیران رہ گئے ان کا چھوٹا بھائی جو کچھ دیر پہلے تکلیف کے مارے تڑپ رہا تھا اب سکون سے لیٹا ہوا تھا بلکہ اٹھکیلیوں میں مشغول تھا ۔ جب آپریشن کا وقت ہوا اور سرجن صاحب آئے تو بچے کو بھلا چنگا دیکھ کروہ حیرت میں پڑ گئے اور اُس کا دوبارہ اچھی طرح چیک اپ کیا، کچھ ٹیسٹ بھی کروائے ۔رپورٹ دیکھی تو گردے کی پتھری غائب تھی ۔وہ ہم سے کہنے لگے : آپ اسے گھر لے جائیے یہ بالکل ٹھیک