Brailvi Books

شرحِ شجرہ قادِریہ رضویہ عطاریہ
173 - 216
پریشان تھی ۔بہت کوشش کی کہ کسی طرح وہ اجتماع میں جانے کے لئے راضی ہوجائیں مگر ناکام رہی ۔شام کے وقت توجہ مُرشِد سے 3مرتبہ شجرہ عالیہ قادریہ رضویہ عطّاریہ پڑھا اور خوب دعائیں مانگیں ۔ٹرین روانہ ہونے میں کچھ ہی وقت باقی رہ گیا تھا میں نے آخری کوشش کے طور پر ایک بار پھراُن سے درخواست کی :''اجتماع میں چلے جائیے۔'' الحمدللہ عَزَّوَجَلَّ شجرہ عالیہ کی برکت سے وہ (جو پہلے اس سلسلے میں میری کوئی بات سننے کے لئے تیّار نہیں تھے)حیرت انگیز طور پر اجتماع میں شریک ہونے کے لئے تیار ہوگئے اورکہنے لگے :''ٹھیک ہے میرا سامان تیار کردو ۔''میری خوشی کی انتہاء نہ رہی ،میں نے جھٹ پٹ ان کا بیگ تیار کیا اور وہ اُسی ٹرین سے مدینۃ الاولیاء ملتان شریف کے لئے روانہ ہوگئے جس میں سیٹ بُک کروائی تھی۔صرف یہی نہیں بلکہ جب بھی مجھے کوئی مشکل پیش آتی ہے تو میں شجرہ عالیہ کے دعائیہ اشعار پڑھنا شروع کردیتی ہوں تو الحمدللہ عَزَّوَجَلَّ میری وہ پریشانی دور ہوجاتی ہے ۔
یہ عطائے دستگیری کوئی میرے دل سے پوچھے 

وہیں آگئے مدد کو میں نے جب جہاں پُکارا
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
 (16)گُردے کا درد جا تا رہا
    بابُ الاسلام(سندھ) کے مشہور شہر حیدرآباد کے عطّاری اسلامی بھائی (جو روزگار کے سلسلے میں بحرین میں مقیم ہیں)کے بیان کا خلاصہ ہے :ایک مرتبہ رات تقریباً
Flag Counter