Brailvi Books

شرحِ شجرہ قادِریہ رضویہ عطاریہ
171 - 216
ہوگئے کہ اس اسلامی بھائی کاجسم ٹھنڈا پڑ چکا تھا ۔

    پوری بس میں شور مچ گیا کہ'' ایک مسافر کا انتقال ہوگیا ہے۔'' سب مسافر پریشان تھے ۔ان اعصاب شکن حالات میں بھی خیرخواہ اسلامی بھائی نے ہمت نہیں ہاری اور ان کے منہ پر پانی کی چھینٹے مارے اور انہیں ہوش میں لانے کی کوششیں کرنے لگے ۔مختلف قراٰنی سُورتیں پڑھ کر دم کیا ،دیگر دُعائیں پڑھنے کے ساتھ ساتھ مصیبت کے وقت کی یہ دعا بھی پڑھی :
''اَعِیْنُوْنِیْ یَا عِبَادَاﷲ''
اور بھی دُعائیں پڑھیں پھر شجرہ عالیہ قادریہ رضویہ عطّاریہ کے ان اشعار کی تکرار شروع کردی :
یا الہٰی رَحم فرما مصطفی کے واسِطے (عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم)

یا رسولَ اللہ کرم کیجئے خدا کے واسِطے  (عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم)

مشکلیں حل کر شہ مُشکل کُشا کے واسِطے (رضی اللہ تعالیٰ عنہ)

کر بَلائیں رَد شہیدِ کربَلا کے واسِطے   (رضی اللہ تعالیٰ عنہ)

دل کو اچھا تَن کوسُتھر ا جان کو پُر نور کر

اچھے پیارے شَمْسِ دِیں بَدْرُالْعُلیٰ کے واسِطے(رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ)
     ایک اسلامی بھائی کے پاس شیخ طریقت، امیراہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ کے بال مبارک موجود تھے ۔انہوں نے وہ بال پانی میں ڈبوئے اور اس پانی کے چھینٹے مریض اسلامی بھائی کے منہ پر مارنے لگے۔حیرت انگیز طور پراچانک اس
Flag Counter