بابُ المدینہ (کراچی) کی ایک اسلامی بہن کے حلفیہ بیان کا لبّ لباب ہے کہ ہمارے گھرمیں ناچاقیوں نے ڈیرے ڈال رکھے تھے ۔دن بدن آپس میں کشیدگی بڑھتی جارہی تھی ،آئے دن لڑائی جھگڑوں کا سلسلہ رہتاجس کی وجہ سے گھر کا سُکون برباد ہوکر رہ گیا تھا ۔دیگر گھر والوں کی طرح میں بھی اس صورتِ حال سے سخت پریشان تھی ۔گھر میں امن قائم ہونے کی کوئی سبیل دکھائی نہ دیتی تھی ۔اسی دوران پیر ومرشد امیراہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ کی توجُّہ سے مجھے آپ کے عطاکردہ رسالے'' شجرہ قادریہ رضویہ ضیائیہ عطّاریہ ''سے شجرہ عالیہ پڑھنے کا خیال آیا ۔ بس پھر کیا تھا! میں نے شجرہ عالیہ کو گھریلو ناچاقیاں دور ہونے کی نیت سے پڑھنا شروع کر دیا۔الحمدللہ عَزَّوَجَلَّ شجرہ عالیہ پڑھنے کی ایسی برکتیں نصیب ہوئیں کہ ہمیں گھر یلو جھگڑوں سے( جوپہلے ختم ہونے کا نام نہیں لیتے تھے ) نجات مل گئی اور ہمارے گھر میں ایسا امن قائم ہوگیا جیسے یہاں کبھی ناچاقی تھی ہی نہیں ۔
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد