حیدرآباد (باب الاسلام سندھ) سے موصول ہونے والے مکتوب میں کچھ اس طرح تحریر تھا :اگست 2004ء میں ایک عطّاریہ اسلامی بہن کا انتقال ہوا ۔ ان کے انتقال کے بعد اُنہیں غسل دینے والی دعوتِ اسلامی کی مبلغہ اسلامی بہن نے امیراہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ کے عطاکردہ رسالہ'' شجرہ قادریہ رضویہ عطّاریہ '' ان کی رشتہ دار خواتین کو دیتے ہوئے ان کی قبر میں رکھنے کا مشورہ دیا ۔ چنانچہ گھر کے مرد اَفراد کے ذریعے شجرہ عالیہ ان کی قبر میں رکھوا دیا گیا ۔۱؎ کچھ عرصے بعد مرحومہ اپنی ایک رشتہ داراسلامی بہن کو خواب میں شاندار بچھونے پر بیٹھی ہوئی نظر آئیں۔وہ بڑی خوش وخُرم دکھائی دے رہی تھیں ۔ مرحومہ مُسکراتے ہوئے کچھ یوں کہنے لگیں