میں اپنے آپ کو ایک کمرے میں پایا ۔میں نے دیکھا کہ ایک مبلغِ دعوتِ اسلامی بھی وہاں موجود ہیں اور مجھ سے فرما رہے ہیں : کیا آپ کو معلوم ہے کہ آج اس شہر میں سرکارِ مدینہ ، سُرورِ قلب وسینہ ،صاحبِ معطّر پسینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم تشریف لانے والے ہیں ۔ میں یہ سُن کر خوشی سے جھوم اٹھا اور اپنے میٹھے میٹھے مَدَنی آقا،دوعالم کے داتا صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے استقبال کے لئے باہر کی طرف لپکا۔جونہی میں دروازے کے قریب پہنچا تواسے بند پایا ۔میں نے پریشان ہوکر ادھر ادھر دیکھا کہ باہر نکلنے کا کوئی دوسرا راستہ مل سکے مگر اس کمرے سے باہر نکلنے کا ایک ہی راستہ تھا جو بند تھا ۔پھر اچانک دروازہ خودبخود کھل گیا ۔میں فوراً باہر نکلا تو لوگوں نے مجھے بتایا کہ مکی مدنی سرکار صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم تو تشریف لے جاچکے ہیں ۔ زیارت سے محرومی کے صدمے نے مجھے غمگین کردیااور میری آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے ۔پھرمیں نے (خواب ہی میں ) اپنے آپ کو حضرت بہاؤالدین زکریا(ملتانی) رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے مزار کے قریب پایا ۔ سامنے سے چند گھڑسوا رآتے ہوئے دکھائی دئیے ۔ جب وہ میرے قریب سے گزرے تو میں نے دیکھا کہ ایک گھوڑے پر میرے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم سوار ہیں ،آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے سراَنور پر عمامہ شریف تھا اور سفید لباس آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے وجود مسعود کی برکتیں لوٹ رہا تھا ۔آپ کا چہرہ مبارک انتہائی نُورانی اور لب ہائے مبارکہ پر تبسم تھا ۔بقیہ گھوڑوں پر صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم سوار تھے ۔میں خوشی کے عالم میں ''آقا کی آمد مرحبا''کا استقبالی نعرہ لگانے لگا ۔پھر میں مسجد میں