دیکھ رہے تھے مگر انہوں نے امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ العالیہ سے ملاقات نہیں کی اور نہ ہی کسی عقیدت ا اظہار کیا۔اتنے میں پیدائشی نابینا اسلامی بھائی بھی کسی طرح اپنی گاڑی سے اتر کر گرتے پڑتے آپہنچے اور امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ العالیہ کی کار کے اگلے حصے پرہاتھ مارمار کرآپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ العالیہ کی تو جہ چاہنے لگے۔ کسی نے امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ العالیہ کو اشارے سے عرْض کی کہ یہ مادرزاد نابینا ہیں ان پر دم کردیں اور دعا بھی فرمادیں۔امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ العالیہ نے جُھک کر شیشے میں سے اس مادر زاد نابینا کے چہرے پر اپنی نگاہ ولایت ڈالی اور سامنے رکھے بیگ میں سے ٹارچ نکال کر اسکی روشنی اُس مادر زاد نابینا کے چہرے پر ڈالتے ہوئے جیسے ہی دَم کرنے کے انداز میں پھونک ماری تواُس مادر زاد نابینا نے ایکدم جُھر جُھری سی لی اور اسکی آنکھیں روشن ہوگئیں۔
وہ اسلامی بھائی اچانک آنکھیں روشن ہوجانے پر عجیب کیفیت و دیوانگی کے عالم میں چِلّانے لگے کہ مجھے نظر آرہا ہے ، میری آنکھیں روشن ہوگئیں ، مجھے نظر آرہا ہے۔یہ کہتے ہوئے وہ امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ العالیہ کی جانب بڑھے اور روتے ہوئے آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ العالیہ کے قدموں میں گر پڑے۔ یہ ایسا ناقابلِ یقین منظر تھا کہ وہاں موجود 35 کے قریب چَشْم دید گواہ دَم بَخود رہ گئے ۔ رات کا آخری پہر تھا ۔ لوگوں پرکچھ دیر تو سکتہ طاری رہاپھر جب حواس بحال ہوئے تو ان کی آنکھیں بھی زمانے کے ولی کی کُھلی کرامت دیکھ کرجذباتِ تاثر سے بھیگ گئیں۔ پیدائشی نابینا جن کی اب آنکھیں روشن ہوچکی تھیں اُن کی حالت قا بلِ دید تھی ، وہ آنکھوں