Brailvi Books

شرحِ شجرہ قادِریہ رضویہ عطاریہ
145 - 216
علمائے اہلسنّت سے محبت
    اَمیرِ اَہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ عُلَمائے اہلسنّت دامت فیوضہم سے بے حد عقیدت و محبت رکھتے ہیں اور نہ صرف خود انکی تعظیم کرتے ہیں بلکہ اگر کوئی آپ دامت برکاتہم العالیہ کے سامنے عُلَمائے اَہلسنّت دامت فیوضہم کے بارے میں کوئی نازیبا کلِمہ کہہ دے تو اس پَرسخت ناراض ہوتے ہیں۔ ایک جگہ تَحریرفرماتے ہیں کہ'' اسلام میں عُلَماءِ حق کی بَہُت زیادہ اَہمِیَّت ہے اور وہ علْمِ دین کے باعِث عوام سے افضل ہوتے ہیں۔ غیر عالم کے مقابلے میں ان کو عبادت کا ثواب بھی زیادہ ملتا ہے۔'' چُنانچِہ حضرتِ محمد بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مَروی ہے : ''عالم کی دو رَکْعَت غیرِ عالم کی ستّر رَکْعَتْ سے افضل ہے۔''(کنزالعُمّال،ج ۱۰ ص ۶۷ ،دارالکتب العلمیۃ بیروت)لہٰذا دعوتِ اسلامی کے تمام وابَستگان بلکہ ہر مسلمان کے لئے ضَروری ہے کہ وہ عُلَمائے اہلسنّت سے ہر گز نہ ٹکرائیں، ان کے ادب و احِترام میں کوتاہی نہ کریں، عُلَمائے اہلسنّت کی تَحقیر سے قَطْعاً گُرَیز کریں، بِلا اجازتِ شرعی ان کے کردار اور عمل پر تنقید کرکے غیبت کا گناہِ کبیرہ، حرام اور جھنَّم میں لے جانے والاکام نہ کریں، حضرتِ سیِّدُنا ابوالحَفص الکبیر علیہ رحمۃُ القدیر فرماتے ہیں:''جس نے کسی عالِم کی غیبت کی تو قِیامت کے روز اُس کے چہرے پر لکھا ہوگا، یہ اللہ کی رَحْمت سے مایوس ہے۔''(مُکاشَفَۃُ الْقُلُوْب ،ص ۷۱،دارالکتب العلمیۃ بیروت)

    ایک مکتوب میں لکھتے ہیں :''علماء کو ہماری نہیں ،ہمیں علماء دامت فیوضھم کی
Flag Counter