| شرحِ شجرہ قادِریہ رضویہ عطاریہ |
ہوئی نظر آتی ہے۔آپ دامت برکاتہم العالیہ کا عاشقِ رسول ہونا ہر خاص وعام پر اتنا ظاہر وباہِر ہے کہ آپ کو عاشقِ مدینہ کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے ۔ آپ دامت برکاتہم العالیہ کو بار ہا یادِ مصطفٰے صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم اور فراق طیبہ میں آنسوبہاتے دیکھا گیا ہے۔ اجتماع ِ ذکرونعت میں تو آپ کی رقّت کا بیان کرنے سے قلم قاصر ہے۔ کبھی کبھی آپ یادِ مصطفٰے صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم میں اس قدردیوانہ وار تڑپتے اور روتے ہیں کہ دیکھنے والوں کو رحم آنے لگتا ہے اور وہ بھی رونے لگتے ہیں۔
سرکارکے قدموں کے نشاں ڈھونڈرہا ہے جو اشک مری آنکھ کی پُتلی سے گِرا ہے
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
عقیدتِ اعلٰی حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
امیرِ ا َہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ اپنے رسالے سیِّدی قطبِ مدینہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ میں تَحریر فرماتے ہیں:''الحمدللہ عَزَّوَجَلَّ میں بچپن ہی سے امامِ اَہلسنّت، عظیم ُالبَرَکت، پروانہ شمعِ رسالت ، مجدّد دین و ملت مولیٰنا شاہ اَحمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن سے متعارف ہوچکا تھا ۔پھر جُوں جُوں شُعور آتا گیا اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃ الرحمن کی محبت دل میں گھر کرتی چلی گئی ۔میں بِلاَ خوفِ تردید ،کہتا ہوں کہ ربُّ العُلیٰ کی پہچان، میٹھے میٹھے مصطفی صَلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کے ذریعے ہوئی ۔ تو مجھے میٹھے میٹھے مصطفی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کی پہچان امام اَحمد رضا علیہ رحمۃ الرحمن کے سبب نصیب ہوئی ۔''