امامِ اہلِسنّت مجدد دین وملت الشاہ امام احمد رضاخان علیہ رحمۃ الرحمن سے بے حد عقیدت کی بنا پر امیرِ اَہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ کوآپ علیہ رحمۃ الرحمن کے سلسلے میں داخل ہونے کا شوق پیدا ہوا ۔جیسا کہ امیرِ اَہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ خود لکھتے ہیں:''(مرید ہونے کے لئے) ایک ہی ''ہستی'' مرکز توجہ بنی ،گومشائخِ اہل ِسنت کی کمی تھی نہ ہے مگر
؎ پسند اپنی اپنی خیال اپنا اپنا
اس مقدس ہستی کا دامن تھام کر ایک ہی واسطے سے اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃ الرحمن سے نسبت ہوجاتی تھی اور اس ''ہستی'' میں ایک کشش یہ بھی تھی کہ براہِ راست گنبدِ خضرا کا سایہ اُس پر پڑ رہا تھا۔اس ''مقدس ہستی'' سے میری مراد حضرت شَیخُ الفضیلت آفتابِ رَضَویت ضیاءُ الْمِلَّت، مُقْتَدائے اَہلسنّت، مُرید و خلیفہ ئ اعلیٰ حضرت،پیرِ