| شرحِ شجرہ قادِریہ رضویہ عطاریہ |
دُعائیہ شعر کا مفہوم:
اِس شعر میں شیخِ طریقت،امیرِ اَہلسنّت، با نیِ دعوتِ اسلامی، حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد ا لیاس عطارقادِری رَضَوی ضیائی دامَتْ بَرَکاتُہُمُُ الْعالیہ بارگاہِ الہٰی عَزَّوَجَلَّ میں عرض کرتے ہیں : یا اللہ عَزَّوَجَلَّ تجھے عاشقانِ رسول کے امام ،اعلیٰ حضرت الشاہ مولانا احمدرضا خان علیہ رحمۃ الرحمن کا واسطہ مجھے عشقِ رسول میں ''چشمِ تَر'' یعنی رونے والی آنکھیں اور ''سوزِ جِگَر''یعنی ان کی یاد میں تڑپنے والادل عطا فرما۔ آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلمصَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
تذکرہ:
اس شعر میں سلسلہ عالیہ قادریہ رضویہ عطّاریہ کے اکتالیسویں شیخِ طریقت یعنی حضرتِ علامہ مولانا ابو بلال محمد ا لیاس عطارقادِری رَضَوی ضیائی دامَتْ بَرَکاتُہُمُُ الْعالیہ کا ذکر ہے ۔ ان کے مختصر حالاتِ زندگی ملاحظہ ہوں: