Brailvi Books

شرحِ شجرہ قادِریہ رضویہ عطاریہ
135 - 216
حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّار قادری رضوی دامت برکاتہم العالیہ کو اپنی خلافت اور قطب مدینہ مولانا ضیاء الدین مَدَنی علیہ رحمۃ اللہ الغنی (جو ابھی بقیدِ حیات تھے) کی وکالت دی تھی ۔جب تک میزبانِ مہمانانِ مدینہ حضرت سیدنا قطب مدینہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ حیات تھے ،امیرِاہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ وکیلِ قطب مدینہ کی حیثیت سے مسلمانوں کو اپنے پیرومُرشِد کا ہی مرید بناتے تھے ۔ جب قطب مدینہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ دنیا سے پردہ فرماگئے تو آپ نے اسلامی بھائیوں کے اصرار پر مولانا عبدالسلام رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی دی ہوئی خلافت کو استعمال کرتے ہوئے بیعت ہونے کی خواہش رکھنے والوں کو اپنا مُرید یعنی عطّاری بنانے کا سلسلہ شروع کردیا ۔امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ کو اگرچہ دنیائے اسلام کے اور بھی کئی اکابر علماء و مشائخ دامت فیوضھم سے خلافت حاصل ہے،مثلاًشارِح بخاری،فقیہ اعظم ہند مفتی شریف الحق امجدی علیہ رحمۃ اللہ الولی ،مفتی اعظم پاکستان حضرت مفتی وقار الدین قادری علیہ رحمۃ اللہ الھادی اورجانشین سیدی قطبِ مدینہ حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب اشرفی علیہ رحمۃ اللہ الولی نے بھی اپنی خلافت اور حاصل شدہ اَسانید و اِجازات سے نوازا ہے۔مگر امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہنے چونکہ حضرت سیِّدُناعبدالسلام قادری علیہ رحمۃ اللہ الھادی کی دی ہوئی خلافت کے ذریعے بیعت کرنے کا سلسلہ شروع فرمایا تھا اس لئے شجرہ کے اشعار کے اُسلوب (یعنی پہلے شعر میں اُن کا ذکر ہے جس نے خلافت دی اور دوسرے میں اُن کا جسے خلافت ملی )کو سامنے رکھتے ہوئے اس شعر کو شجرہ میں شامل رکھا۔
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
Flag Counter