Brailvi Books

شرحِ شجرہ قادِریہ رضویہ عطاریہ
134 - 216
الرضوان آرام فرماہیں وَہیں سیِّدۃُ النِّساء فاطِمۃُ الزَّہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے مزار پُر انوار سے صِرف دو گز کے فاصلے پر سِپُردِ خاک کیا گیا۔

اللہ عَزّوَجَلَّ کی اِن پر رحمت ہو اور اِن کے صد قے ہماری مغفِرت ہو
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
 (21) اَحْیِنَافِی الدِّیْنِ وَالدُّنْیَا سَلاَم'' بِا لسَّلاَم

         قادِری عبد السلام عبدِرَضا کے واسِطے(رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ)
دُعائیہ شعر کا مفہوم:

     یا اللہ عَزَّوَجَلَّ تجھے حضرتِ مولانا عبدالسلام قادر ی علیہ رحمۃ اللہ الھادی کا واسطہ ہمیں دنیا وآخرت میں سلامتی عطا فرما۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم

تذکرہ:

    اس شعر میں سلسلہ عالیہ قادریہ رضویہ عطّاریہ کے چالیسویں شیخِ طریقت یعنیحضرتِ مولانا عبدالسلام قادری علیہ رحمۃاللہ الھادی کے وسیلے سے دُعا کی گئی ہے ۔ حضرت علامہ عبدالسلام قادری علیہ رحمۃ اللہ القوی ،شیر بَیشہ سنّت حضرت علامہ مولانا حشمت علی خان علیہ رحمۃ اللہ المنّان کے مُرید اور قطب مدینہ حضرت علامہ مولانا ضیاء الدین مَدَنی علیہ رحمۃ اللہ الغنی کے وکیل وخلیفہ تھے ۔آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے کولمبو(سی لنکا) میں گیارہ ربیع لغوث ۱۳۹۹؁ھ،10مارچ 1979؁ء میں شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت
Flag Counter