| شرحِ شجرہ قادِریہ رضویہ عطاریہ |
رات کو آستانہ عالیہ پر محفلِ میلاد کا انعقاد ہوتا۔ جس میں مَدَنی، تُرکی، پاکستانی، ہندوستانی، شامی، مصری، افریقی، سوڈانی، اور دنیا بھرسے آئے ہوئے زائرین شرکت کرتے۔ امیرِ اَہلسنّت دامَتْ بَرَکاتُہُم العالیہ فرماتے ہیں اَ لَحَمْدُ للہِ عَزّوَجَلَّ مجھے بھی کئی بار اُس مقدس محفِل میں نعت شریف پڑھنے کا شَرَف حاصِل ہوا ہے میں نے ایک خاص بات قطبِ مدینہ کی محفِل میں یہ دیکھی کہ حُضور اختِتام پر (بطورِ تَواضُع) دُعا نہیں فرماتے تھے بلکہ کسی نہ کسی شریکِ محفِل کو دُعاکا حکم فرمادیتے ۔ دُعاکے بعد روزانہ لازِمی لنگر شریف بھی ہوتا تھا۔
؎ راتیں بھی مدینے کی باتیں بھی مدینے کی جینے میں یہ جینا ہے کیا بات ہے جینے کی
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
طَمْع نہیں ، مَنْع نہیں اور جمع نہیں
حضرتِ قطبِ مدینہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ایک کریمُ النَّفس اور شریف الفِطرت بُزرگ تھے ان کی قُربت میں اُنس و محبَّت کے دریا بہتے تھے اور سلف صالحین کی یاد تازہ ہوجاتی آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سخی اور بَہُت عطا فرمانے والے تھے۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرمایا کرتے تھے، طَمْع نہیں ، مَنْع نہیں اور جمع نہیں(یعنی لالچ مت کرو کہ کوئی دے اور اگر کوئی بِغیر مانگے دے تو منع مت کرو اور جب لے لو تو جمع مت کرو) جب آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو کوئی عِطر پیش کرتا تو خوش ہوکر اُسے اِس طرح دعا دیتےعَطَّرَاللہُ اَیَّامَکُم یعنی اللہ عَزّوَجَلَّ َّ تمہارے اَیّام مُعَطّر (خوشبودار) کرے۔ آپ کو شَہنشاہِ اُمم ، سرکارِ دوعالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم اور حُضُورِ سیِّدُنا غوثُ الْاَعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بے حد الفت تھی ایک بار فرمانے لگے، کسی نے کیا خوب کہا ہے۔