Brailvi Books

شرحِ شجرہ قادِریہ رضویہ عطاریہ
131 - 216
پائی۔ ؎ کلی ہیں گلستانِ غوث الوریٰ کی         یہ باغ رضا کے گُلِ خوشنما ہیں
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
کراچی تا بَغداد
    ۱۳۱۸؁ھ (۱۹۰۰؁) میں تقریباً ۲۴ سال کی عُمر میں آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اپنے پیر و مرشِدامامِ اَہلسنت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے رخصت ہوکر باب المدینہ( کراچی) تشریف لائے۔ کچھ عرصہ کراچی میں گزار کر حُضُورِ غوثِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے خُصُوصی فُیُوض و بَرَکات حاصِل کرنے کیلئے بَغدادِ مُعلّٰی وارِد ہوئے ۔ وہاں تقریباً چار برس اِسْتِغْراق کی کیفیت رہی اور مَجذْوب رہے۔ بَغداد شریف میں ۹ برس اور کچھ ماہ قِیام رہا۔
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
روزانہ محفِلِ میلاد
    حضرتِ قطبِ مدینہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو تاجدارِ مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم سے جُنون کی حد تک عشق تھا بلکہ یہ کہنا بے جانہ ہوگا کہ آپ رحمۃ اللہ تعالی ٰعلیہ فَنافی الرَّسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کے منصب پر فائز تھے۔ ذِکرِ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم ہی آپ کا روزو شبانہ مَشغَلہ تھا ۔اکثر زیارت کیلئے آنے والے سے اِسْتِفسار فرماتے ، آپ نعت شریف پڑھتے ہیں؟ اگر وہ ہاں کہتا تو اُس سے نعت شریف سَماعت فرماتے اور خوب مَحظُوظ ہوتے ، بارہا جذباتِ تاثر سے آنکھوں سے سَیلِ اشک رواں ہوجاتا، روزانہ
Flag Counter