| شرحِ شجرہ قادِریہ رضویہ عطاریہ |
باطل کے زور سے( اپنے زُعْمِ فاسد میں) توڑدی۔ آ پ نے دوسری دلیل دی، اس نے وہ بھی( اپنے زُعْمِ فاسد میں) توڑ دی ، یہاں تک کہ آپ نے 360دلیلیں قائم کیں اور اس نے وہ سب( اپنے زُعْمِ فاسد میں) توڑدیں۔اب آپ سخت پریشان ہوئے۔ شیطان نے کہا،اب بول خدا کو کیسے مانتا ہے ؟ آپ کے پیر حضرت نجم الدین کبریٰ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ وہاں سے میلوں دور کسی مقام پر وُضو فرماتے ہوئے چشمِ باطن سے یہ مناظرہ ملاحَظہ فرمارہے تھے ۔آپ نے وہیں سے آواز دی: رازی! کہہ کیوں نہیں دیتے کہ میں نے خدا کو بغیر دلیل کے ایک مانا۔ امام رازی نے یہ کہا اور کلمہ طیبہ پڑھ کر جان! جان آفرین کے سِپُرد کر دی۔ (الملفوظ حصہ چہارم صفحہ ۳۸۹) اللہ عَزّوَجَلَّ کی اُن پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری مغفِرت ہو
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد
حکمِ قراٰنی
اللہ عَزَّوجَلَّ قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے:
یَوْمَ نَدْعُوۡا کُلَّ اُنَاسٍۭ بِاِمَامِہِمْ ۚ
ترجمہ کنزالایمان: جس دن ہم ہر جماعت کو اس کے امام کے ساتھ بلائیں گے۔(پ۱۵ ،بنی اسرائیل :۷۱)
تفسیرنورُ العِرفان میں حکیم الامت مفتی احمد یا ر خان نعیمی علیہ رحمۃ اللہ الغنی اس آیتِ مبارَکہ کے تحت لکھتے ہیں:'' اس سے معلوم ہوا کہ دنیا میں کسی صالح کو اپنا امام بنالیناچاہیئے شریعت میں ''تقلید'' کرکے ، اور طریقت میں ''بَیْعَت''کرکے ، تاکہ حَشْر اچھوں کے ساتھ ہو۔ اگر صالح امام نہ ہوگا تو اس کا امام شیطان ہوگا۔ اس آیت میں تقلید، بَیْعَت اور مُریدی سب کا ثبوت ہے۔''صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد