Brailvi Books

شرحِ شجرہ قادِریہ رضویہ عطاریہ
119 - 216
    (۱)پہلے احمدسے مرادکسی کا نام نہیں بلکہ اس کے لغوی معنی ملحوظ ہیں یعنی زیادہ پسندیدہ اور ''رضاء''کے معنی ہیں خوشنودی۔ لہذااَحمد رضائے اَحمد ِمرسل (صلّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلّم)کا معنی ہوا: اَحمد ِمُرْسَل (صلّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلّم) کی پسندیدہ رضا ۔اور دوسرے مصرع میں اَحمد رضا سے امامِ اَہلسنّت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا اسمِ گرامی اَحمد رضا مراد ہے ۔چنانچہ اس شعر میں نبی اکرم صلّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلّم کی پسندیدہ رضا کو و اعلیٰ حضرت مولانا احمدرضاخان علیہ رحمۃ الرحمن کے وسیلے سے طلب کیا گیا ہے ۔

    (۲)پہلے احمدسے مراد نبی کریم صلّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلّم ہیں اور رضائے احمد کا مطلب ہے احمد یعنی سرکارِ دوعالم صلّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلّم کی رضا ! چنانچہ اس شعر میں سرکارِ مدینہ اور رضائے سرکارصلّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلّم کو اعلیٰ حضرت مولانا احمدرضاخان کے وسیلے سے طلب کیا گیا ہے ۔
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
تذکرہ:

    اس شعر میں سلسلہ  عالیہ قادریہ رضویہ عطّاریہ کے اڑتیسویں شیخِ طریقت یعنی اعلیٰ حضرت امام اَحمد رضاخان علیہ رحمۃ الرحمن کے وسیلے سے دُعا کی گئی ہے ۔ ان کے مختصر حالاتِ زندگی ملاحظہ ہوں:

(38)اعلٰیحضرت امام احمد رضا خانعلیہ رحمۃ الرحمن

اعلٰیحضرت ، اِمامِ اَہلسنّت ، عظیمُ البَرَکت، عَظِیمُ المَرْتَبت، پروانہ شمعِ رِسالت ، مُجَدِّدِ دِین ومِلَّت، حضرتِ علَّامہ مولٰینا الحاج الحافظ القاری الشّاہ امام احمد رَضا خان
Flag Counter