Brailvi Books

شرحِ شجرہ قادِریہ رضویہ عطاریہ
120 - 216
علیہ رحمۃ الرحمٰن کی ولادت باسعادت بریلی شریف (ہند)کے مَحَلّہ جَسولی میں ۱۰ شَوَّالُ الْمُکَرَّم ۱۲۷۲؁ھ بروز ہفتہ بوقتِ ظہر مطابِق 14 جون 1856ء کو ہوئی۔ سِنِ پیدائش کے اِعتبار سے آپ کا تاریخی نام اَلْمُختار (۱۲۷۲ھ) ہے۔آپ کا نامِ مبارَک محمد ہے، اور آپ کے دادا نے احمد رضا کہہ کر پکارا اور اسی نام سے مشہور ہوئے۔پھر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اپنے نام کے ساتھ عبدالمصطفےٰ کا اضافہ فرمایا ، جب آپ دستخط کرتے تو'' عبدالمصطفےٰ احمدرضا'' لکھا کرتے ۔ایک نعتیہ غزل کے مقطع میں لکھتے ہیں ؎
خوف نہ رکھ ذرا رضاتُوتو ہے عبدمصطفےٰ

تیرے لئے امان ہے تیرے لئے امان ہے
    اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے صرف تیرہ سال دس ماہ چار دن کی عمر میں تمام مُروَّجہ عُلُوم کی تکمیل اپنے والدِ ماجد رئیسُ المُتَکَلِّمِین مولانا نقی علی خان علیہ رحمۃ المنّان سے کرکے سَنَدِفراغت حاصل کرلی۔ اُسی دن آپ نے ایک سُوال کے جواب میں پہلا فتویٰ تحریر فرمایا تھا۔ فتویٰ صحیح پا کر آپ کے والدِ ماجد نے مَسندِ اِفتاء آپ کے سپرد کردی اور آخر وقت تک فتاویٰ تحریر فرماتے رہے۔

    اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ۱۲۹۴؁ ھ،1877؁ء میں اپنے والد ماجد مولانا نقی علی خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے ہمراہ حضرتِ شاہ آلِ رسول رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی خدمت میں مارہرہ مطہرہ میں حاضر ہوئے اور سلسلہ قادریہ میں بیعت سے مشرف ہو کر اجازت و خلافت سے بھی نوازے گئے-اس پر کسی نے حضرت شاہ آل رسول رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی خدمت سراپااقدس میں عرض کی :''حضور! آپ کے یہاں تو ایک لمبے عرصے تک مجاہدات وریاضات کے بعد خلافت واجازت مرحمت کی جاتی ہے ،پھر کیا وجہ ہے کہ ان دونوں (یعنی مولانا نقی علی خان اور اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہما )کو بیعت کرتے ہی خلافت عطا فرمادی ؟''اِرشاد فرمایا:''اورلوگ زنگ آلود میلاکچیلا دل لے کر آتے ہیں ،اس کی صفائی وپاکیزگی کے لئے مجاہداتِ طویلہ اور ریاضات شاقہ کی ضرورت پڑتی ہے ،یہ دونوں حضرات صاف ستھرا دل لے کر ہمارے پاس آئے ان کو صرف اِتصالِ نسبت کی ضرورت تھی اور وہ مُرید ہوتے ہی حاصل ہوگئی ۔''

    اللہ تعالیٰ نے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو بے اندازہ عُلُومِ جَلَیلہ سے نوازا تھا۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے کم و بیش پچاس عُلُوم میں قلم اُٹھایا اور قابلِ قدر کُتُب تصنیف فرمائیں۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو ہر فن میں کافی دسترس حاصل تھی۔ علمِ توقیت، (عِلمِ۔ تَو۔ قِیْ ۔ ت ) میں اِس قَدر
Flag Counter