| شرحِ شجرہ قادِریہ رضویہ عطاریہ |
چچاحضرت اچھے میاں رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے اجازت و خلافت حاصل تھی۔والد ماجد نے بھی اجازت مرحمت فرمائی تھی مگر مرید اچھے میاں رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے سلسلہ میں فرماتے تھے ۔۱۸ ذوالحجۃ الحرام ۱۲۹۶ھ کووصال شریف ہوا۔ وقتِ رِحلت لوگوں نے استدعا کی کہ حضور! کچھ وصیت فرمادیجئے۔ بہت اصرار پر فرمایا، مجبور کرتے ہو تو لکھ لو ہمارا وصیت نامہ۔
اَطِیْعُو االلہَ وَ اَطِیْعُواالرَّسُوْلَ
(یعنی اللہ اور اس کے رسول عَزَّوَجَلَّ وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی اطاعت کرو)بس یہی کافی ہے اور اسی میں دین و دنیا کی فلاح ہے۔آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا مزار شریف مارہرہ شریف میں مرجع خلائق ہے۔ اللہ عَزّوَجَلَّ کی اِن پر رحمت ہو اور اِن کے صد قے ہماری مغفِرت ہو
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
معراج کی حقیقت
بدایوں کے ایک صاحب جو آپ کے مرید خاص تھے۔وہ ایک مرتبہ سوچنے لگے کہ معراج شریف چند لمحوں میں کس طرح ہو گئی؟آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اس وقت وضو فرمارہے تھے۔ فوراً اس سے کہا :'' میاں اندر سے ذرا تولیہ تو لاؤ!''موصوف جب اندر گئے تو ایک کھڑکی نظر آئی ۔اس جانب نگاہ دوڑائی تو کیادیکھتے ہیں کہ پُر فضا باغ ہے۔ یہاں تک کہ اس میں سیر کرتے ہوئے ایک عظیم الشان شہر میں پہنچ گئے۔وہاں انہوں نے کاروبار شروع کر دیا،شادی بھی کی اولاد بھی ہوئی،یہاں تک کہ 20 سال کا عرصہ گزر گیا۔جب اچانک حضرت نے آواز دی تو وہ گھبرا کر کھڑکی