Brailvi Books

شرحِ شجرہ قادِریہ رضویہ عطاریہ
115 - 216
تین بیٹوں کی بشارت
    خلیفہ محمد ارادت اللہ بدایونی نامی آپ کے ایک مرید تھے جو ہمہ وقت اسی فکر میں رہتے تھے کہ خدا وند تعالیٰ ایک بیٹا عطافرمائے۔ایک مرتبہ حضور صاحب البرکات کے عرس میں اپنے مرشد کے رُوبرو کھڑے تھے ۔دریائے سخاوتِ عرفانی جوش پر تھا ۔ارشاد فرمایا:''ارادت اللہ کیا چاہتے ہو؟انہوں نے عرض کیا کہ غلام کو کوئی فاتحہ خواں (یعنی بیٹا)نہیں ہے۔''حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے دعا کی:''یارب کریم عَزَّوَجَلَّ ہمارے ارادت اللہ کو فرزند دیدے۔''اس کے بعد فرمایا : خلیفہ!پہلے بیٹے کا نام کریم بخش رکھنا،دوسرے کا رحیم بخش اورتیسرے کا نام الٰہی بخش رکھنا۔خلیفہ موصوف قدموں میں گر پڑے اور عرض کرنے لگے :'' حضور !مجھے تو ایک کی بھی اُمید نہیں تھی ۔'' توحضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اپنے سرمبارک کا کلاہ (ایک خاص قسم کی ٹوپی)دینے کے بعد ارشاد فرمایا:'' خدا کی ذات سے مجھ کو امید ہے۔''خلیفہ ارادت اللہ واپس ہوئے ۔جلد ہی خدا کی قدرت ظاہر ہوئی اوران کے ہاں بیٹا پیدا ہو ا۔ خلیفہ نے اس کا نام کریم بخش رکھا ۔یہاں تک کہ تین سالوں میں 3 بیٹے ہوئے اور تینوں کا نام حضرت کے حکم کے مطابق رکھا ۔
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
Flag Counter