اس نے سوچا کہ کالپی شریف حضرت میر سید محمد قدس اللہ سرہ العزیز کی بارگاہ میں چلنا چاہے ۔ اور اپنے دل میں یہ خیال باندھا کہ اگر پہلی بار دیکھنے کے ساتھ ہی میرے اوپر کوئی کیفیت طاری ہو گئی تومیں اپنے تمام گناہوں سے تائب ہو جاؤں گا اور اگر کوئی کیفیت ظاہرنہیں ہو گی تو علی الاعلان شراب نوشی کروں گا۔جب وہ حضرت کی بارگاہ میں پہنچا تو دیکھتے ہی بے ہوش ہو گیا اور کافی دیر تک عالم بے ہوشی میں پڑا رہا ۔جب افاقہ ہو ا تو اپنے گریبان کو چاک کر دیا اور فقراختیار کر کے تارکُ الدنیا ہوگیا۔ آپ نے اپنے کشف سے اس کے آئندہ حالات کا مشاہدہ فرمایااور ایک عمدہ جوڑا مع خادم کے اس کے پاس روانہ فرمایا۔اس نے خلعت کو قبول نہ کیا ۔خادم نے ہر چند کوشش کی مگر وہ انکارہی کرتارہا۔آخر کار حضرت خود تشریف لائے اورارشادفرمایاکہ ''تم میری اِرادت کی وجہ سے مرجعِ اربابِ سعادت ہو چکے ہو ، اس لئے جو کچھ بھی تمہیں دیا جا رہا ہے اسے قبول کر لو، تم کیا جانتے ہو کہ اس میں کیا راز ہے؟''یہاں تک کہ اس نے خلعت کو پہنا اور پھر اس پر راز سر بستہ منکشف ہوئے اور وہ آپ کے درکا خادم ہو گیا۔