Brailvi Books

شرحِ شجرہ قادِریہ رضویہ عطاریہ
102 - 216
مشکل الفاظ کے معانی: خوان:دسترخوان گدا:منگتا
دُعائیہ شعر کا مفہوم:

     یا اللہ عَزَّوَجَلَّ حضرتِ سیِّدُناشیخ محمد رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اورحضرتِ سیِّدُنا شیخ اَحمد رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا واسطہ حضرتِ سَیِّدفضل اللہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے سخاوت والے دسترخوان سے اس فقیر کو بھی حصہ عطا فرما۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
تذکرہ:

    اس شعر میں سلسلہ عالیہ قادریہ رضویہ عطّاریہ کے تیسویں، اکتیسویں اور بتیسویں شیخِ طریقت یعنی حضرتِ سیِّدُناشیخ محمدکالپوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ،حضرتِ سیِّدُنا شیخ اَحمد رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اور حضرتِ سَیِّدفضل اللہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے وسیلے سے دُعا کی گئی ہے ۔ ان تینوں بُزُرگوں رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے مختصر حالاتِ زندگی ملاحظہ ہوں:
 (30)حضرتِ سیِّدُنا شیخ محمد کالپوی علیہ رحمۃ اللہ الباری
    حضرتِ سید میر محمدکالپوی علیہ رحمۃ اللہ الباری۱۰۰۲؁ھ کوہند کے شہر کالپی میں پیدا ہوئے ۔ آپ کے والدِ ماجدحضرت ابی سعید علیہ رحمۃ اللہ الرشیدآپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی ولادت سے قبل شہر دکن کی طرف تشریف لے گئے اور مَفْقُودُ الخَبَر (یعنی لاپتہ)ہوگئے۔آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اپنی والدہ محترمہ کی آغوش تربیت میں پروان
Flag Counter