| شرحِ شجرہ قادِریہ رضویہ عطاریہ |
میرادل روشن فرما اور حضرت شیخ جمال الاولیاء رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کےصدقے میرے رُوئے ایمان (یعنی ایمانی چہرے)کو حسن و جمال عطا فرما ۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم
وضاحت:
'' ضیا ء الدین ''کے ساتھ'' ضیائ'' اور ''جمال الاولیاء ''کے ساتھ'' جمال'' مانگنا باہم لفظی مناسبت رکھتاہے ۔صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
تذکرہ:
اس شعر میں سلسلہ عالیہ قادریہ رضویہ عطّاریہ کے اٹھائیسویں اور انتیسویں شیخِ طریقت یعنی حضرتِ سیدناقاضی ضیاء الدین علیہ رحمۃ اللہ المُبین اور حضرتِ سیِّدُنا شیخ جمال الاولیاء رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے وسیلے سے دُعا کی گئی ہے ۔ ان دونوں بُزُرگوں رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے مختصر حالاتِ زندگی ملاحظہ ہوں:(28)حضرتِ سیِّدُنا قاضی ضیاء الدین علیہ رحمۃ اللہ المُبین
حضرتِسیِّدُناشیخ قاضی ضیاء الدین بن سلیمان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ۹۲۵ ھ میں ضلع لکھنؤ (ہند)میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم گھر پر حاصل کی ۔ اس کے بعد گجرات کا سفر کیا اور وہاں علامہ وجیہہ الدین بن نصر اللہ علوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے عُلوم و فنون کی تکمیل کی۔آپ نے شرفِ بیعت و خلافت حضرت شیخ نظام الدین شاہ