میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اللہ عَزَّوجَلَّ بے نیاز ہے اُس کی خفیہ تدبیر کو کوئی نہیں جانتا،کسی کو بھی اپنے علم یا عبادت پر ناز نہیں کرنا چاہے۔ شیطان نے ہزاروں سال عبادت کی، اپنی رِیاضت اور علمیّت کے سبب مُعَلِّمُ المَلَکُوت یعنی فرشتو ں کا اُستاذ بن گیا تھا لیکن اس بدبخت کو تکبُّر لے ڈوبا اور وہ کافِر ہوگیا۔ اب بندوں کو بہکانے کیلئے وہ پورا زور لگاتا ہے، زندَگی بھر تو وسوسے ڈالتا ہی رَہتا ہے مگر مرتے وقت پوری طاقت صَرف کردیتا ہے کہ کسی طرح بندے کا بُرا خاتِمہہو جائے۔ چُنانچِہ روحُ البیان جلد10 صفحہ315 میں ہے: ایکبار مدینے کے تاجدار صلی اﷲ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کے دربار میں شیطان مکّار روپ بدل کرہاتھ میں پانی کی بوتل لئے حاضِر ہوا اور عرض کی:میں لوگوں کو نَزع کے وَقت یہ بوتل ایمان کے بدلے فروخت کیاکرتا ہوں۔ یہ سن کر آقائے نامدار، شفیعِ روزِشمار، اُمّت کے غمخوار، مدینے کے تاجدار صلی اﷲ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم اتنا روئے کہ اہلبیت اطہار بھی رونے لگے۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے وحی بھیجی، اے میرے محبوب! آپ غم مت کیجئے ! میں بحالتِ نزع اپنے