Brailvi Books

شاھراہِ اولیاء
20 - 37
نہیں ،۔۔۔۔۔۔ بلکہ قیامت کے دن اس کی بارگاہ میں کھڑے ہونے کو یاد کرو اور خوف وامید کا دامن تھام کر کھڑے ہوجاؤ،۔۔۔۔۔۔ اپنے دل کو دنیا اور مخلوق کی طرف سے پھیر لو اور اپنی پوری توجہ اس طرف لگادو کہ وہ اپنی بارگاہ سے بھاگنے والے کو (حاضر ہوجانے پر) واپس نہیں کرتا اورنہ ہی کسی سائل کو ناامید کرتاہے ۔

    پیارے اسلامی بھائی !جب تم'' اللہ اکبر'' کہو تو یہ بات ذہن میں رہے کہ وہ تمہاری عبادت اور تمہارے ذکر کرنے کا محتاج نہیں ہے کیونکہ محتاجی تو فقراء کی صفت اور مخلوق کی علامت ہے جبکہ وہ توبے نیاز ہے۔ اس نے تو مخلوق کو اپنی عبادت کا حکم اس لئے دیا کہ وہ اس عبادت کے وسیلے سے اس کے عفوودرگزر اور رحمت کے قریب اور اس کے جلال اور عذاب سے دور ہوسکیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ ارشاد فرماتا ہے
،''وَاَلْزَمَھُمْ کَلِمَۃَ التَّقْوٰی وَکَانُوْآ اَحَقَّ بِھَا وَاَھْلَھَا
ترجمۂ کنزالایمان:اور پرہیز گاری کا کلمہ ان پر لازم فرمایا اور وہ اس کے زیادہ سزاوار اور اس کے اہل تھے ۔ (پ۲۶،الفتح:۲۶)

    ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا
''وَلٰکِنَّ اللّٰہَ حَبَّبَ اِلَیْکُمُ الْاِیْمَانَ وَزَیَّنَہٗ فِیْ قُلُوْبِکُمْ
ترجمۂ کنزالایمان: لیکن اللہ نے تمہیں ایمان پیارا کر دیا ہے اور اسے تمہارے دلوں میں آراستہ کر دیا ۔(پ۲۶،الحجرات:۷)

    پیارے اسلامی بھائی !تمہیں تو اس بات کا شکر ادا کرنا چاہے کہ اللہ عزوجل نے تمہیں اپنی بارگاہ میں حاضرہونے کی توفیق بخشی ۔اللہ تعالیٰ نے ارشادفرمایا
''ھُوَاَھْلُ التَّقْوٰی وَاَھْلُ الْمَغْفِرَۃِ
ترجمۂ کنزالایمان:وہی ہے ڈرنے کے لائق اور اسی کی شان ہے مغفرت فرمانا ۔(پ۲۹،المدثر:۵۶)
Flag Counter