جانتے ہو ہمسایہ کا کیا حق ہے؟ اس ذات کی قسم! جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے۔ہمسایہ کے حق کو بہت تھوڑے لوگ پورا کرتے ہیں جن پر اللہ رَبُّ الْعِزَّت عَزَّوَجَلَّ رحمت فرماتا ہے۔
راوی فرماتے ہیں : رحمتِ عالَم، نورِ مجسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ صحابۂ کرام کو ہمسائے کے حق کی وصِیَّت فرماتے رہے حتی کہ انہوں نے خیال کیا کہ عنقریب ہمسائے کو وارث بنا دیا جائے گا۔(شُعَبُ الاِْیْمَان لِلْبَیْہَقِی، باب فی اکرام الجارج، ج۷، ص۸۳، الحدیث:۹۵۶۰)
کتنے گھر پڑوس میں داخل ہیں ؟
حضرتِ سیِّدُنا امام زُہری عَلَــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی سے مروی ہے کہ ایک شخص نے حضور سراپا رحمت وشفقت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں ہمسایہ کی شکایت کی تو نبیِّ اَکرَم، نورِ مجسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حکم فرمایا کہ مسجد کے دروازے پر کھڑے ہو کر اعلان کر دو کہ ساتھ کے 40گھر ہمسائیگی میں داخل ہیں ۔ امام زُہری عَلَــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں کہ 40 اِدھر ،40 اُدھر، 40 اِدھر، 40 اُدھراور چاروں طرف اشارہ فرمایا۔
(احیاء العلوم ،کتاب اٰداب الالفۃ والاخوۃ، حقوق الجوار، ج ۲، ص۲۶۵)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد