(9)…وہ نوجوان جس نے اپنی جوانی بے کار ضائع کر دی، علم وادَب کچھ نہ سیکھا۔
(10)…ایسا آدمی جو خود شکم سیر ہے اور اس کا ہمسایہ بھوکا ہے اور یہ اسے کھانے کو کچھ بھی نہیں دیتا۔
(تَنْبِیْہُ الْغَافِلِیْن ، باب حق الجار، ص ۷۸)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
پڑوسی کا حق کیا ہے؟
نبیِّ کریم، رء ُوفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا: جس نے اپنے مال اور اہل پر خوف کرتے ہوئے پڑوسی پر دروازے کو بند کیا تو وہ مومن نہیں اور وہ شخص بھی مومن نہیں جس کے فتنے سے اس کا پڑوسی امن میں نہ ہو، جانتے ہو ہمسایہ کا کیا حق ہے؟ اگر وہ تجھ سے مدد طلب کرے تو اس کی مدد کرو، اگر وہ تجھ سے قرض مانگے تو اسے قرض دو، اگر وہ مفلس ہو جائے تو اس کی حاجت روائی کرو، اگر وہ بیمار ہو جائے تو اس کی عیادت کرو، اگر کوئی خوشی حاصل ہو تو اسے مبارکباد دو، اگر مصیبت پہنچے تو تعزیت کرو، اگر مر جائے تو جنازہ کے ساتھ جاؤ، اس کے مکان سے اپنا مکان اُونچا نہ بناؤ کہ اس کی ہوا روک دومگر یہ کہ وہ اجازت دے دے تو کوئی حرج نہیں ، ہانڈی کی خوشبو سے اپنے ہمسائے کو ایذا نہ دو مگر یہ کہ ایک چُلّو اسے بھی بھیج دو، جب پھل خرید کر لاؤ تو اس کے گھر تحفہ بھیجو ورنہ خفیہ لے کر آؤ اور تمہاری اولاد پھل لے کر باہر نہ نکلے تا کہ ان کے بچے ناراض نہ ہوں ۔ پھرارشاد فرمایا: کیا تم