پڑوسیوں کی خیرخواہی
پیاری پیاری اسلامی بہنو! خاتونِ جنّت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی سیر ت سے ہمیں یہ مدَنی پھول بھی چُننے کو ملا کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا ہمسایوں کے لیے زیادہ دُعا فرمایا کرتیں اور فرماتیں : پہلے ہمسایہ ہے پھر گھر۔ ایک ہم نادان ہیں کہ ہمسایوں کا ہمیں خیال تک نہیں ۔ ہم اپنے گھر میں طرح طرح کے کھانے کھاتے ہیں ،عمدہ عمدہ ملبوسات پہنتے ہیں اور ہم میں سے بعضوں کے ہمسایوں کو یہ چیزیں میسَّر نہیں ہوتیں اور ہمیں ان کا خیال تک نہیں آتا اور اگر وہ کسی چیز کا سوال کریں تو ہم پھر بھی نہیں دیتے۔
مُفسِّرِ شَہیر، حکیم ُالا ُمَّت مفتی احمد یار خان نعیمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی پارہ30 سُوْرَۃُ الْمَاعُوْن، آیت نمبر7، ’’وَیَمْنَعُونَ الْمَاعُوْنَ0 ترجمۂ کنزالایمان: اور برتنے کی چیز مانگے نہیں دیتے۔‘‘ کے تحت ’’تفسیرِ نورُ العِرفان‘‘ میں جو کچھ فرماتے ہیں ، اس کا خُلاصہ پیشِ خدمت ہے۔ معمولی برتنے کی چیزوں کو ماعون کہا جاتا ہے، جیسے سوئی، نمک، آگ، پانی وغیرہ یعنی منافقین کی عبادتیں بھی خراب ہیں اور معاملات بھی گندے کہ اپنے پڑوسیوں کو معمولی برتنے کی چیزیں عاریتہ بھی نہیں دیتے، آگ، پانی، نمک پر ان کی جان نکلتی ہے، یا یہ لوگ اپنی ضرورت سے بچی چیزیں جو ان کے لیے بے کار ہیں ، کسی کو