اب جانچو کہ تم مالِک علی الاطلاق عَزَّوَجَلَّ کے کتنے اَحکام بجالاتے ہو۔ اس کا حکم بجا نہ لانا اور اپنی درخواست کا خواہی نخواہی (یعنی زبردستی ؍ناچار) قبول چاہنا کیسی بے حَیَائی ہے، او احمق! پھر فرق دیکھ اپنے سر سے پاؤں تک، نظرِ غور کر، ایک ایک روئیں میں ہر وقت ہر آن کتنی کتنی ہزار در ہزار صد ہزار بے شمار نعمتیں ہیں ، تو سوتا ہے اور اس کے معصوم بندے (یعنی فِرِشتے) تیری حفاظت کو پہرا دے رہے ہیں ، تو گناہ کر رہا ہے اور سر سے پاؤں تک صحّت وعافیت، بلاؤں سے حفاظت، کھانے کا ہضم، فُضلات کا دفع، خون کی روانی، اعضاء میں طاقت، آنکھوں میں روشنی، بے حِساب کرم بے مانگے بے چاہے تجھ پر اتر رہے ہیں ، پھر اگر تیری بعض خواہشیں عطا نہ ہوں کس منہ سے شکایت کرتا ہے، توکیا جانے کہ تیرے لیے بھلائی کا ہے میں ہے، تو کیا جانے کہ کیسی سخت بلا آنے والی تھی کہ اس دُعا نے دفع کی، تو کیا جانے کہ اس دعا کے عوض کیسا ثواب تیرے لیے ذخیرہ ہورہا ہے، اس کا وعدہ سچا ہے، اور قبول کی یہ تینوں صورتیں ہیں (جو پیچھے گزر چکیں ) جن میں ہر پہلی پچھلی سے اعلیٰ ہے۔ ہاں ! بے اِعتِقادی آئی تو یقین جان کہ مارا گیا اور ابلیس لعین نے تجھے اپنا سا کر لیا۔ والعیاذ باللہ سبحٰنہ وتعالٰی۔(فَضَائِلِ دُعا، ص۱۰۰)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
تُوْبُوْا اِلَی اللہ! اَسْتَغْفِرُ اللہ
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد