نہیںدیتے، اگر چہ خراب ہی ہو جاویں ، اس آیت سے وہ زمیندار عبرت پکڑیں جو اپنا فالتو غلّہ بازار میں نہیں لاتے۔
پڑوسیوں کے حقوق
پیاری پیاری اسلامی بہنو! آپ نے مُلاحَظہ فرمایا کہ عاریتہ کسی کو کوئی چیز نہ دینا منافقین کے کام ہیں ۔ مسلمانوں کو تو اپنے پڑوسیو ں کا خیا ل رکھنا چاہئے، پڑوسیوں کے حقوق بَہُت زیادہ ہیں ، چُنانچِہ حضرتِ سیِّدُنا عبدُاللہ اِبنِ عُمَر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما سے مروی ہے کہ سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ باقرینہ ہے: حضرتِ جبریل عَلَیْہِ السَّلام مجھے پڑوسی کے بارے میں وصِیَّت کرتے رہے یہاں تک کہ مجھے گمان ہونے لگا کہ وہ پڑوسی کو وراثت کا حقدار بنا دیں گے۔ (صحیح البخاری، کتاب الادب ،باب الوصاۃ بالجار، ص۱۵۰۰، الحدیث:۶۰۱۵)
حضرتِ سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہٗ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرْض کیا، یا رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! فلاں عورت نماز وروزہ، صدَقہ کثرت سے کرتی ہے مگر اپنے پڑوسیوں کو زبان سے تکلیف بھی پہنچاتی ہے۔ سرکارِ مدینہصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: وہ جہنّم میں ہے۔(مُسْنَد اَحمَد، ج۴، مسند ابی ھریرہ ، ص۶۳۵، الحدیث:۹۹۲۶)