Brailvi Books

شانِ خاتونِ جنّت
93 - 470
 الْاَکرَمِیْن عَزَّ جَلَالُہکے دروازے پر اوّل تو آتا ہی کون ہے اور آئے بھی تو اُکتاتے، گھبراتے، کل کا ہوتا آج ہو جائے، ایک ہفتہ کچھ پڑھتے گزرا اور شکایت ہونے لگی، صاحب پڑھا تو تھا کچھ اثر نہ ہوا، یہ احمق اپنے لیے اِجابت (قبولِیّت) کا دروازہ خود بند کر لیتے ہیں ۔ رسولاللہصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فرماتے ہیں  : ’’تمہاری دُعا قبول ہوتی ہے جب تک جلدی نہ کرو کہ میں  نے دعا کی تھی، قبول نہ ہوئی۔‘‘
(سنن الترمذی ، احادیث شتیٰ، باب فی الاستعاذۃ، ص۸۲۳، الحدیث:۳۶۰۸)
	اورپھر بعض تو اس پر ایسے جامے سے باہر ہو جاتے ہیں  کہ اعمال واَدعیّہ (یعنی وظائف ودعاؤں  ) کے اَثَر سے بے اِعتِقاد بلکہ اللہ (عَزَّوَجَلَّ ) کے وعدہ وکرَم سے بے اِعتِماد۔والعیاذ بااللہ الکریم الجواد
	ایسوں  سے کہا جائے کہ اے بے حَیَا! بے شرمو! ذرا اپنے گریبان میں  منہ ڈالو، اگر کوئی تمہار ا برابر والا دوست تم سے ہزار بار کچھ کام اپنے کہے اور تم اس کا ایک کام نہ کرو، تو اپنا کام اس سے کہتے ہوئے اوّل تو آپ لجاؤ (یعنی شرماؤ) گے کہ ہم نے تو اس کا کہنا کیا ہی نہیں  اب کس منہ سے اس سے کام کو کہیں  اور اگر ’’غرض دیوانی ہوتی ہے‘‘ کہہ بھی دیا اوراس نے نہ کیا تو اصلاً (یعنی بالکل بھی) محلِّ شکایت نہ جانوگے کہ ہم نے کب کیا تھا جو وہ کرتا۔