ہے؟جس کی ہم کو سزا مِل رہی ہے!‘‘اور نَماز کے معاملے میں اِن کی غَفلت تَو اِنہیں نظر ہی نہیں آ رہی! گویا نَماز نہ پڑھنا تَو (مَعَاذَ اللہ) کوئی گُناہ ہی نہیں ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
تُوْبُوْا اِلَی اللہ! اَسْتَغْفِرُ اللہ
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
قبولِیّتِ دُعا میں جلدی نہ کرے!
پیاری پیاری اسلامی بہنو! دُعا کی قبولِیّت میں جلدی نہیں مچانی چاہئے، چُنانچِہ دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 318 صفْحات پر مشتمل کتاب ’’فضائلِ دُعا‘‘ صفْحہ97 پر رَئِیْسُ الْمُتَکَلِّمِیْن حضرت علّامہ مفتی نقی علی خان عَلَــیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان دُعا کے آداب اور قبولِیّت کے اسباب ذکر کرتے ہوئے 48واں ادَب یہ بیان فرماتے ہیں : ’’دُعا کی قبولِیّت میں جلدی نہ کرے‘‘ اس ادَب کے تحت سیِّدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمنَّان فرماتے ہیں : سگانِ دنیاکے اُمیدواروں کو دیکھا جاتا ہے کہ تین تین برس تک اُمیدواری میں گزارتے ہیں ، صبح وشام ان کے دروازوں پر دوڑتے ہیں اور وہ ہیں کہ رُخ نہیں ملاتے، دل تنگ ہوتے ہیں ، ناک بھَوں چڑھاتے ہیں ، مگر یہ نہ امید توڑیں نہ پیچھا چھوڑیں اور اَحْکَمُ الْحاکِمِین، اَکرَمُ