نہ جانے کون سا گناہ ہو گیا ہے
پیاری پیاری اسلامی بہنو! دیکھا آپ نے! دُعا مانگنے میں اللہ رَبُّ الْعِزَّت عَزَّوَجَلَّ اور اُس کے پیارے حَبیب،مہرِ رسالت، ماہِ نُبُوَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اِطاعَت بھی ہے، دُعا مانگنا سُنَّت بھی ہے، دُعا مانگنے سے عِبادَت کا ثواب بھی ملتا ہے نِیز دُنیا وآخِرت کے مُتَعَدَّد فَوائِد حاصِل ہوتے ہیں ۔بَعض اسلامی بہنوں کو دیکھا گیا ہے کہ وہ دُعا کی قَبُولِیَّت کیلئے بَہُت جلدی مچاتی بلکہ مَعَاذَ اللہ باتیں بناتی ہیں کہ میں تَو اتنے عَرصہ سے دُعائیں مانگ رہی ہوں ، بُزُرگوں سے بھی دُعائیں کرواتی رہی ہوں ، کوئی پیر فقیر نہیں چھوڑا،یہ وظائف پڑھتی ہوں ، وہ اَوراد پڑھتی ہوں مگر اللہ رَبُّ الْعِزَّت عَزَّوَجَلَّ میری حاجَت پُوری کرتا ہی نہیں بلکہ بَعض یہ بھی کہتی سنی جاتی ہیں :
’’نہ جانے ایسا کون سا گُناہ ہوگیا ہے جس کی مجھے سزا مِل رہی ہے۔‘‘
نماز نہ پڑھنا تو گویاکوئی خطا ہی نہیں !!!
اس طرح کی’’ بَھڑاس ‘‘نِکالنے والیوں سے اگر دَریافت کیا جائے کہ بہن! آپ نَماز تَو پڑھتی ہی ہوں گی؟تَو شاید جواب ملے، ’’جی نہیں ۔ ‘‘دیکھا آپ نے !زبان پر تَو بے ساختہ جاری ہورہا ہے،’’نہ جانے کیا خَطا ہم سے ایسی ہوئی