Brailvi Books

شانِ خاتونِ جنّت
90 - 470
جائے گا ۔ لہٰذا دُعا میں  سُستی کرنا مُناسِب نہیں ۔ 
’’یا حَیُّ ‘‘ کے چار حُرُوفکی نسبت سے 4 مَدَنی پھول
{1}…:پہلا فائِدہ یہ ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ  کے حُکم کی پَیروی ہوتی ہے کہ اُ س کا حُکْم ہے مجھ سے دُعا مانگا کروجیسا کہ قُراٰنِ پاک میں  ارشادِ خدائے پاک ہے:
اُدْعُوْنِیْۤ اَسْتَجِبْ لَكُمْؕ- (پ۲۴، مؤمِن:۶۰)
ترجمۂ کنزالایمان: مجھ سے دُعا کرو میں  قبول کروں  گا۔
{2}:دُعا مانگنا سُنَّت ہے کہ ہمارے پیارے پیارے آقا، مکّی مَدَنی مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اکثر اَوقات دُعا مانگتے۔ لہٰذا دُعا مانگنے میں  اِتّباعِ سُنَّت کا بھی شَرَف حاصِل ہو گا۔
{3}:دُعا مانگنے میں  اِطاعَتِ رَسُول بھی ہے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنے غُلاموں  کو دعا کی تاکِید فرماتے رہتے۔
{4}:دُعا مانگنے سے یا تو بندے کے گناہ مُعاف کئے جاتے ہے یا دُنیا ہی میں  اُس کے مسائِل حل ہوتے ہیں  یا پھر وہ دُعا اُس کے لئے آخِرت کا ذَخِیرہ بن جاتی ہے۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! 		صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد