Brailvi Books

شانِ خاتونِ جنّت
89 - 470
منوَّرہ کے بچوں  سے اپنے لئے دُعا کراتے کہ دُعا کرو عمر بخشا جائے۔(فَضَائِلِ دُعا، ص۱۱۲)
دُعا کے 3 فوائد
	اللہ عَزَّوَجَلَّ  کے محبوب ،دانائے غُیُوبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم فرماتے ہیں:بندے کی دُعا تین باتوں  سے خالی نہیں  ہوتی: 
 {1  }… اُسے دنیا میں  فائِدہ حاصِل ہوتا ہے۔ …{2}… یااُس کے لئے آخِرت میں  جمع کی جاتی ہے۔ {3}…یا بقدر دعااُس کے گُناہ مٹائے جاتے ہیں ۔ (سنن ترمذی ،احادیث شتی،باب فی الاستعاذۃ، ص۸۲۳، الحدیث :۳۶۰۷) ایک روایت میں  ہے مومن (کہ جب آخِرت میں  اپنی دُعاؤں  کا ثواب دیکھے گاجو دُنیا میں  مُسْتَجاب (یعنی مَقبول) نہ ہوئی تھیں  ) تمنّا کرے گا،کاش !دُنیا میں  میری کوئی دُعا قَبول نہ ہوتی(اور سب یہیں  (یعنی آخِرت) کے واسِطے جمع ہو جاتیں  )۔ 
(المستدرک علی الصحیحین للحاکم ، کتاب الدعاء والتکبیر والتہلیل ۔۔۔الخ، باب یدعو اللہ با لمؤمن یوم القیامۃ، ج۲،ص ۱۶۴، الحدیث: ۱۸۶۲)
دُعا میں  4 سعادتیں
	پیاری پیاری اِسلامی بہنو!دیکھا آپ نے!دُعا رائیگاں  تَوجاتی ہی نہیں ۔ اِس کا دُنیا میں  اگر اثر ظاہِر نہ بھی ہو تَو آخِرت میں  اَجْر و ثواب مِل ہی