منوَّرہ کے بچوں سے اپنے لئے دُعا کراتے کہ دُعا کرو عمر بخشا جائے۔(فَضَائِلِ دُعا، ص۱۱۲)
دُعا کے 3 فوائد
اللہ عَزَّوَجَلَّ کے محبوب ،دانائے غُیُوبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم فرماتے ہیں:بندے کی دُعا تین باتوں سے خالی نہیں ہوتی:
{1 }… اُسے دنیا میں فائِدہ حاصِل ہوتا ہے۔ …{2}… یااُس کے لئے آخِرت میں جمع کی جاتی ہے۔ {3}…یا بقدر دعااُس کے گُناہ مٹائے جاتے ہیں ۔ (سنن ترمذی ،احادیث شتی،باب فی الاستعاذۃ، ص۸۲۳، الحدیث :۳۶۰۷) ایک روایت میں ہے مومن (کہ جب آخِرت میں اپنی دُعاؤں کا ثواب دیکھے گاجو دُنیا میں مُسْتَجاب (یعنی مَقبول) نہ ہوئی تھیں ) تمنّا کرے گا،کاش !دُنیا میں میری کوئی دُعا قَبول نہ ہوتی(اور سب یہیں (یعنی آخِرت) کے واسِطے جمع ہو جاتیں )۔
(المستدرک علی الصحیحین للحاکم ، کتاب الدعاء والتکبیر والتہلیل ۔۔۔الخ، باب یدعو اللہ با لمؤمن یوم القیامۃ، ج۲،ص ۱۶۴، الحدیث: ۱۸۶۲)
دُعا میں 4 سعادتیں
پیاری پیاری اِسلامی بہنو!دیکھا آپ نے!دُعا رائیگاں تَوجاتی ہی نہیں ۔ اِس کا دُنیا میں اگر اثر ظاہِر نہ بھی ہو تَو آخِرت میں اَجْر و ثواب مِل ہی