Brailvi Books

شانِ خاتونِ جنّت
88 - 470
قربان! آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا  کو اُمّتِ مُسلِمہ کا کس قدَر درد تھا کہ ہم ناتوانوں  کے لئے بعض اَوقات ساری ساری رات دعائیں  مانگتی رہتیں  اور اپنی سہولت وآسائش کے لئے ربِّ کائنات کی بارگاہ میں  کبھی مُلتجِی نہ ہوتیں  حالانکہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے گھر میں  اکثرو بیشتر فاقہ رہتا، مکمل تن ڈھانپنے کے لئے کپڑاتک نہ ہوتا لیکن خداتعالیٰ کی بارگاہ میں  توکُّل اس درجے کا تھا کہ کبھی بھی دنیا کی فانی نعمتوں  کے متعلِّق سوال تک نہ کیا۔
 	ہمیں  بھی اپنے ربِّ کریم کی بارگاہ میں  مسلمان بھائیوں  اور بہنوں  کے لئے زیادہ سے زیادہ دعا کرنی چاہئے کہ مسلمان کی دُعا مسلمان کے لئے اس کی غیر موجودگی میں  بہت جلد قبول ہوتی ہے نیز دُعا کی قبولِیَّت کے سلسلے میں  کسی کے حق میں  دوسروں  کا دُعا کرنا خود اس کے اپنے حق میں  دُعا کرنے سے بہتر ہے ،چُنانچِہ منقول ہے کہ ’’حضرتِ سیِّدُنا موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو خطاب ہوا: اے موسیٰ! مجھ سے اس منہ کے ساتھ دُعا مانگ جس سے تو نے گناہ نہ کیا۔ عرض کی: الٰہی! وہ منہ کہاں  سے لاؤں  ؟(یہ انبیائے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی تواضع ہے ورنہ وہ یقینا ہر گناہ سے معصوم ہیں  )  فرمایا: اَوروں  سے دُعا کروا، کہ ان کے منہ سے تو نے گناہ نہ کیا۔(مَثْنَوِی مولانا رُوم(مترجم)، دفتر سوم، ص۲۴۵)
	امیرُ المؤمنین حضرت سیِّدُنا عُمَر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہ  مدینہ