Brailvi Books

شانِ خاتونِ جنّت
87 - 470
خاتونِ جنّت کی دُعائیں
	حضرتِ سیِّدُنا امام حَسَن رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہ  فرماتے ہیں  :میں  نے بعض مرتبہ اپنی والدۂ ماجدہ حضرتِ سیِّدَتُنا فاطِمَۃُ الزَّہراء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا  کو شام سے صبح تک عبادت وریاضت اوراللہ تعالیٰ کے آگے گریہ وزاری اورنہایت عاجزی سے التجا ودُعا کرتے دیکھا ہے مگر میں  نے کبھی یہ نہیں  دیکھا کہ دُعا میں  اپنے واسطے کوئی درخواست کی ہو بلکہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا  کی تمام دعائیں  حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اُمَّت کی بخشش اوربھلائی کے لئے ہوتیں ۔ (المرجع السّابق)
	شیخِ محقِّق حضرتِ علاَّمہ عبدُ الحق محدِّثِ دہلوی عَلَــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی ’’مَدارِجُ النُّبُوَّہ‘‘ میں  فرماتے ہیں  ، امام حَسَن مجتبیٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہ  فرماتے ہیں  کہ میں  نے اپنی والدۂ ماجِدہ سیِّدَہ فاطمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا  کو مسلمان مردوں  اور عورتوں  کے حق میں  بہت زیادہ دعائیں  کرتے دیکھا، انہوں  نے اپنی ذات کے لیے کوئی دعا نہ مانگی۔ میں  نے عرض کیا :’’اے مادرِ مہربان ! کیا سبب ہے کہ آپ اپنے لیے کوئی دعا نہیں  مانگتیں  ؟ فرمایا : اے فرزند ! اَلْجَوَارُ ثُمَّ الدَّار یعنی پہلے ہمسایہ ہیں  پھر گھر۔ (مَدَارِجُ النُّبُوَّۃ(مترجم)، قسم پنجم ، باب اول در ذکر اولاد کرام ، ج۲، ص۶۲۴)
	پیاری پیاری اسلامی بہنو! سیرتِ فاطمہ پر ہمارے دل وجان