تو میری رضا بلکہ اس سے بھی بڑھ کر ہیں ‘‘ بہت اَہَمِّیَّتکے حامل ہیں ۔ اس پر اسلامی بہنوں کو غور کرنا چاہئے کہ ان کے دل میں اپنے ’’بچوں کے ابّو‘‘ کا کتنا احترام ہے اور وہ اپنے ’’بچوں کے ابّو‘‘ کے کتنے حُقُوق اداکرتی اور ان کی رضا کے لیے کیا کیا کوششیں کرتی ہیں ۔ ’’فتاویٰ رضویہ‘‘ میں سیِّدِی اعلٰیحضرت، اِمامِ اَہلسنّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنکے بیان کردہ حقوق کا مفہوم پیشِ خدمت ہے: شوہر و بی بی کے متعلِّقہ اُمور میں مطلقاً شوہر کی اطاعت یہاں تک کے ان اُمور میں شوہر کی اِطاعت والدین کی اِطاعت پر بھی مقدَّم ہے، شوہر کی عزّت اور مال کی حفاظت ، ہر بات میں اس کی خیرخواہی، ہر وقت جائز کاموں میں اس کی رضا کا طالب رہنا، اُسے اپنا مولیٰ جاننا اور نام لے کر نہ پکارنا، کسی سے اس کی بے جا شکایت نہ کرنا اور خدا توفیق دے تو دُرست شکایت سے بھی بچنا، اس کی اجازت کے بغیر آٹھویں دن سے پہلے والدین یا سال بھر سے پہلے اور محارم کے یہاں نہ جانا(یعنی شوہر کی اجازت کے بغیر جانا پڑ جائے تو صرف محارم یعنی ماں باپ کے یہاں ہر آٹھویں دن اور وہ بھی صبح سے شام تک کے لئے اور بہن، بھائی، چچا، ماموں ، خالہ، پھوپھی کے یہاں سال بھر بعد جاسکتی ہے اور بلا اجازتِ شوہر رات کو کہیں بھی نہیں جا سکتی۔(فتاویٰ رضویہ، ج۲۴، ص۳۸۰ملخصاً) اور اگر وہ ناراض ہو تو اس کی انتہائی خوشامد کر کے اسے منانا ، اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ میں رکھ کر کہنا کہ یہ میراہاتھ تمہارے ہاتھ میں ہے یہاں تک کہ تم راضی ہو، یعنی میں تمہاری مملوکہ ہوں جو چاہو کرو مگر راضی ہو جاؤ۔.
(فتاوٰی رضویہ، ج۲۴، ص۳۷۱، ملخصاً)