فاطمۃُ الزَّہراء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی جب رخصتی ہوئی اور آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا حضرتِ سیِّدُناعلیُّ المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کے گھر تشریف لے گئیں تو حضرتِ سیِّدُنا علیُّ المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے محبت بھری گفتگو کرنے لگے یہاں تک کہ جب رات کا اندھیرا چھا گیا تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا رونے لگیں ۔ حضرتِ سیِّدُنا علیُّ المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے پوچھا: ’’اے تمام عورتوں کی سردار! کیا آپ خوش نہیں کہ میں آپ کا شوہر ہوں اور آپ میری بیوی ہیں ؟‘‘ کہنے لگیں : ’’میں کیونکر راضی نہ ہوں گی ،آپ تو میری رضا بلکہ اس سے بھی بڑھ کر ہیں ، میں تو اپنی اس حالت و معاملے کے متعلِّق سوچ رہی ہوں کہ جب میری عمر پوری ہو جائے گی اور مجھے قبر میں داخل کر دیا جائے گا، آج میرا عزّت و فخر کے بستر میں داخل ہونا کل قبر میں داخل ہونے کی مانند ہے۔ آج رات ہم اپنے ربّ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں کھڑے ہو کر عبادت کریں گے کہ وہی عبادت کا زیادہ حق رکھتا ہے۔‘‘ اس کے بعد وہ دونوں عبادت کی جگہ کھڑے ہو کر ربّ ِقدیرعَزَّوَجَلَّ کی عبادت کرنے لگے۔
(اَلرَّوْضُ الْفَائِق، المجلس الثامن والاربعون فی ازواج علی بفاطمۃ۔۔۔الخ، ص۲۷۸،ملخصاً)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
پیاری پیاری اسلامی بہنو! مذکورہ بالا الفاظ’’ آپ