بہترین شخص
نبیِّ مُکرَّم ،نُورِ مُجسَّم،رسولِ اکرم ،شَہَنشاہِ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ معظَّم ہے: خَیْرُ کُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُراٰنَ وَعَلَّمَہٗ یعنی تم میں بہترین شخص وہ ہے جس نے قراٰن سیکھا اور دوسروں کو سکھایا۔ (صَحِیحُ البُخارِی،کتاب فضائل القران،،باب خیرکم من تعلم القران وعلمہ، ص۱۲۹۹، الحدیث:۵۰۲۷)حضرتِ سیِّدُنا ابو عبدُ الرَّحمن سُلَمی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہٗ قراٰنِ پاک پڑھایا کرتے اور فرماتے: اِسی حدیثِ مبارَک نے مجھے یہاں بٹھا رکھا ہے۔
(فَیْضُ القَدِیْر، حرف الخاء، ج۳، ص۶۱۸، تحتَ الحدیث:۳۹۸۳)
اللہ مجھے حافظِ قراٰن بنا دے
قراٰن کے اَحکام پہ بھی مجھ کو چلا دے
(وسائلِ بخشش از امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ، ص۱۰۱)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
قراٰن شَفاعت کرکے جنَّت میں لے جائے گا
حضرتِ سیِّدُناانَس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہٗ سے رِوایت ہے کہ رحمتِ عالم ، نُورِ مُجَسَّم ، رسولِ مُحتَشَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ معظَّم ہے: جس شخص نے قراٰنِ پاک سیکھا اور سکھایا اور جو کچھ قراٰنِ پاک میں ہے اس پر عمل