اِس کا پڑھنا، پڑھانا اور سننا سنانا سب ثواب کا کام ہے۔ قراٰنِ پاک کا ایک حَرف پڑھنے پر 10 نیکیاں ملتی ہیں ، چُنانچِہ خاتَمُ الْمُرْسَلِین، شفیعُ الْمُذْنِبِیْن، رَحمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ دِلنشین ہے: ’’جو شخص کتابُ اللہ کا ایک حَرف پڑھے گا، اُس کو ایک نیکی ملے گی جو دس(10) کے برابر ہو گی۔ میں یہ نہیں کہتا الٓـمّٓ ایک حَرف ہے، بلکہ اَلِف ایک حَرف، لام ایک حَرف اور میم ایک حَرف ہے۔‘‘
(سُنَنُ التِّرْمِذِی، کتاب فضائل القران،باب ماجاء فی من قرأ حرفاً من القراٰن، ص۶۷۶، الحدیث:۲۹۱۰)
دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ 868 صفْحات پر مُشتمِل کتاب ’’اِصلاحِ اَعمال ‘‘ جلد اوّل صفْحہ277 پر عارِف باللہ، ناصِحُ الاُمّہ حضرتِ علّامہ عبدالغنی بن اسماعیل نابُلُسی حنفیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیاس حدیثِ پاک کو نقْل کرکے فرماتے ہیں :اگرہم اس ’’الٓمّ‘‘ کے ہر حرف یعنی ’’اَلِف،لَام اورمِیْم کو مزید پھیلا نے کا اعتبارکریں توان تینوں کے اپنے حروف 9 بنیں گے تو یوں تمام کے مجموعے کے برابر 90 نیکیاں ہوں گی۔
تِلاوت کی توفیق دے دے الٰہی!
گناہوں کی ہو دُور دل سے سیاہی
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد